MAHDAVIYAT

The Belief in Awaited Saviour (a.t.f.s.)

حضرت امام مہدی ﷣ اور شیعہ و سنی نظریات

Leave a comment

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ                              وَ صَلَّی اللهُ عَلَیْكَ یَا وَلِیَّ الْعَصْرِ اَدْرِكْنَا

حضرت امام مہدی ﷣ کے ظہور کا عقیدہ اپنی تفصیلات کے ساتھ شیعہ اور اہل سنت کی قدیم اور جدید کتابوں میں موجود ہے یعنی ہر دور کے معتبر اور مستند علماء و محدثین،مفسرین و مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے تمام اسلامی فرقے اس عقیدہ پر متفق ہیں یہ عقیدہ فکر کی ایجاد نہیں ہے۔ اس عقیدہ کو صرف وہی مقبول سے مخصوص قرار دے سکتاہے جو علمی دنیا سے بلکل غافل ہو۔

چونکہ یہ عقیدہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان مشترک عقیدہ ہے۔ لہٰذا یہی عقیدہ تمام اسلامی فرقوں میں فقطہ اشتراک و اتحاد قرار پا سکتاہے۔ یہی عقیدہ باہمی انتشار و افتراق کو دور کر سکتا ہے اور ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ کیونکہ تمام ہی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ۔ آخری زمانہ میں اہل بیت میں حضرت فاطمہ زہراء ﷥ کی نسل پاک سے امام مہدی ﷣ کا ظہور ہوگا۔ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔

کوئی بھی مسلمان ان حدیثوں کا انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ حدیثیں متواتر ہیں۔

۱۔       اہل سنت کے بزرگ عالم ابوالحسن محمد بن الحسین الآبری نے اپنی کتاب مناقب الشافعی میں لکھا ہے۔

قد تواترت الاخبار واستقامت (بکثرۃ رواتھا) عن المصطفیٰ رسول اللہ ﷺ بذکر المهدي و انہ من اھل بیتہ…

حضرت رسول خدا ﷺ سے کثرت اور تواتر سے یہ روایتیں موجود ہیں جن میں آنحضرتؐ نے حضرت امام مہدی ﷣ کے ظہور کی خبر دی ہے۔ اور وہ اہل بیت سے ہوں گے۔

حدیثوں کے متواتر ہونے کا نظریہ صرف شیعوں کا نظریہ نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے قدیم اور جدید علماء نے اس نظریہ کی تصدیق کی ہے۔ جیسے

الف۔ ابوعبد اللہ محمد یوسف گنجی(۶۵۸)نے اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان ص۱۶۶۔

ب۔    ابن قیم جوزیہ محمد بن ابی بکر دمشقی (۷۵۱)المنار المنیف ص۱۲۷۔

ج۔      ابوالعباس ابن حجر احمد بن محمد ہیثمی (۹۷۳)نے اپنی کتاب الصواعق المحرقہ میں صفحہ ۹۹ پر اور دوسری کتاب القول المحتضر فی علامات المنتظر میں صفحہ ۳۳۔

د۔      محمد صدیق حسن قنوجی (۱۳۰۷)نے اپنی کتاب الاذالۃ میں صفحہ ۱۲۰ پر ۔

ھ۔      عبد المحسن بن محمد عباد۔ نے اپنی کتاب عقیدہ اہل السنۃ و الاثر فی المہدی المنتظر۔ یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے مجلہ مجلہ الجاسقہ الاسلامیہ کے تیسرے شمارہ میں چھپی ہے۔ اس شمارہ کے صفحہ ۵۹۸ پر۔

اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہر زمانہ کے علماء نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت مہدی ﷣ کا ظاہر ہونا ایک یقینی امر ہے اوراس میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں ہے۔

مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ صوفیوں کا معتقد ہے مسلمانوں کے درمیان صوفیان کرام کا بڑا درجہ ہے۔ صوفیوں میں سب سے بڑا درجہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی الحاتمی (۶۳۸)کو حاصل ہے ۔ ان کی کتاب الفتوحات المکیہ تصوف کی بڑی معیاری کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کتاب کی تیسری جلد باب ۳۶۶ صفحہ ۳۲۷ ،۳۲۸ پر حضرت امام مہدی ﷣ کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں۔

اعلم أيدنا الله أنّ الله خليفة يخرج و قد امتلأت الأرض جورًا و ظلما فيملؤها قسطا و عدلا لو لم يبق من الدّنيا إلّا يوم واحد طوّل الله ذلك اليوم حتّى يلي هذا الخليفة من عترة رسول اللّه ﷺ من ولد فاطمة، يواطي اسمه اسم رسول اللّه ﷺ… يقسّم المال بالسّوية و يعدلّ في الرّعية و يفصل في القضية… يصلحه اللّه في ليلة يمشى النّصر بين يديه،… يقفو إثر رسول اللّه ﷺ لا يخطى،… يرفع المذاهب من الأرض فلا يبقى إلا الدين الخالص…

جان لو۔ خدا ہم سب کی توفیقات میں اضافہ کرے۔ خدا کا ایک جانشین اور خلیفہ ظاہر ہوگا جبکہ زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی وہ اس کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ اگر دنیا کی زندگی میں صرف ایک دن رہ جائیگا خدا اس دن کو اتنا طولانی کرے گا کہ یہاں رسول خدا ﷺ کی عترت سے یہ جانشین اور خلیفہ ظاہر ہو یہ مال کو برابر سے تقسیم کرے گا۔ لوگوں کے ساتھ عدل کا برتاؤ کرے گا،ان کے مسائل میں فیصلہ سنائیگا،خدا اس کے امور کو ایک رات میں درست کردے گا،نصرت و کامیابی اس کے آگے آگے چلے گی،رسول خدا ﷺ کے نقش قدم پر چلے گا،دنیا سے تمام مذھبوں اور فرقوں کا خاتمہ ہو جائیگا،بس دین خالص باقی رہے گا۔

اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ صوفیوں کے نزدیک بھی حضرت امام مہدی ﷣ کا ظہور بالکل یقینی اور قطعی ہے اس میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

۳۔      مؤرخین میں ابن خلدون کا مرتبہ بہت بلند ہے وہ مؤرخ بھی ہیں اور سیاستدار بھی اپنی کتاب تاریخ ’’السعیر‘‘ کے مقدمہ میں جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔

باب ۳ فصل ۵۲ صفحہ ۳۴۴ پر لکھتے ہیں ۔

اعلم أن المشهور بين الكافة من أهل الإسلام على ممر الأعصار أنه لا بد في آخر الزمان من ظهور رجل من أهل البيت يؤيد الدين و يظهر العدل و يتبعه المسلمون و يستولي على المماليك الإسلامية و يسمى بالمهدي…

زمانے کے تمام مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہے کہ آخری زمانہ میں اہل بیت سے ایک شخص ظاہر ہوگا جو دین کو مستحکم کرے گا عدل کو ظاہر کرے گا،تمام مسلمان اس کی پیروی کرینگے تمام اسلامی ممالک پر وہ حکومت کرے گا اور اس کا نام مھدی ہوگا……

تاریخ داں کی یہ عبارت بتارہی ہے کہ اسلام کی تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں گذرا ہے جس دور میں حضرت امام مہدی ﷣ کے ظہور کا عقیدہ نہ رہا ہو۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت امام مہدی ﷣ کے ظہور کا عقیدہ وہ مشترک عقیدہ ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہیں اور یہی عقیدہ تمام مسلمانوں کو متحد کر سکتا ہے۔ یہ تو اہل سنت کے علماء و مؤرخین کا تذکرہ تھا ۔ شیعہ کتابوں میں یہ عقیدہ اس طرح بیان ہوا ہے،البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ شیعہ عقائد کی بنیاد ائمہ معصومین ﷨ کی حدیثیں ہیں اختصار کے پیش نظر صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔

حضرت امام زین العابدین علی بن الحسین ﷨ نے حضرت رسول خدا ﷺ سے یہ روایت نقل فرمائی ہے۔

لو لم يبق من الدّنيا إلّا يوم واحد لطوّل اللّه ذلك اليوم حتّى يبعث رجل، قال و في رواية أبي هريرة حتّى يلي رجل و في رواية حتّى يملك العرب رجل منّي و من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي و اسم أبيه اسم أبي يملأ الأرض قسطا و عدلا كما ملئت ظلما و جورا.

اگر اس دنیا کی عمر میں صرف ایک دن رہے گا خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کرے گا یہاں تک کہ میری عترت سے ایک شخص حکومت پر فائز ہو وہ میرا ہمنام ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جور سے بھر ی ہوگی۔ [1]؎

آپ ملاحظہ فرمائیں حضرت امام مہدی ﷣ کے سلسلے میں شیعہ اور اہل سنت کی عبارتیں ایک طرح کی ہیں۔ لیکن اس عقیدہ کی بعض جز ئیات میں شیعہ اور سنی میں اختلاف پایا جاتا ہے بنیادی اختلاف یہ ہے ۔

اہل سنت کے نزدیک حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام عبد اللہ ہے اور شیعہ کے نزدیک آپ کے والد کا نام حسن اور وہ امام حسن عسکری ﷣ ہیں ۔

اہل سنت کے نزدیک حضرت امام مہدی ﷣ حضرت امام حسن ﷣ کی نسل سے ہیں اور حسنی ہیں۔ اور شیعہ کے نزدیک آپ حضرت امام حسین ﷣ کی نسل سے ہیں اور حسینی ہیں۔

بعض اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت ہوگی۔ شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ ۱۵ شعبان ۲۵۵؁ھ کو حضرت امام حسن عسکری ﷣ کے فرزند حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت ہو چکی ہے۔

ظاہر سی بات ہے جو ولادت کے قائل نہیں ہیں وہ غیبت کے قائل نہیں ہے۔ اسی بنا پر اہل سنت کے نزدیک انتظار کا وہ مفہوم نہیں ہے جو شیعوں کے یہاں ہے البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ حضرت امام مہدی ﷣ اہل بیت میں ہیں اور جناب فاطمہ زہراء ﷥ کی نسل سے ہیں یہ اصحاب کے خاندان سے نہیں ہیں بلکہ اہل بیت سے ہیں اور اہل بیت ہی کا ایک فرد دنیا میں عدل و انصاف قائم کرے گا اور دین خالص یعنی غدیری دین کو تمام دنیا میں رائج کرے گا۔ ذیل میں ان اختلافات کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔

عبد اللہ یا حسن

بعض اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام عبد اللہ ہے یعنی شیعہ جس امام مہدی ﷣ کے قائل ہیں وہ اور ہیں اور ان کے والد کا نام حسن ہے ۔ وہ امام حسن عسکری ﷣ کے فرزند ہیں اس طرح صرف نام مشترک ہے حقیقت الگ ہے۔ اہل سنت حضرات اپنے عقیدہ کی تائید میں حضرت رسول خدا ﷺ کی روایت پیش کرتے ہیں ۔

۱۔       عبد اللہ بن مسعود نے حضرت رسول خدا ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے۔

لاتذھب الدنیا فی یبعث اللہ رجلا من اہل بیتی.اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی.

یہ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی یہاں تک خدا وند عالم میرے اہل بیت سے ایک شخص کو ظاہر کرے گا جس کانام میرے نام پر ہوگا جس کے والد کا نام میرے والد کا نام ہوگا۔ [2]؎

۲۔       حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔

لاتقوم السامۃ حتی علیک الناس رجل من اہل بیتی یواطٰی اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی.

قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت کا ایک فرد تمام لوگوں پر حکومت نہ کرے اس کا نام میرا نام ہوگا اور اس کے والد کا نام میرے والد کا نام ہوگا۔ [3]؎

۳۔      حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا:

المھدی یواطٰی اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی

مہدی ان کانام میرا نام ہوگا اور ان کے والد کا نام میرے والد کا نام ہوگا۔ [4]؎

ان تینوں روایتوں میں حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام حضرت رسول خدا ﷺ کے والد کا نام حضرت رسول خدا ﷺ کے والد کا نام بتایا ہے۔ اورسب جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے والد بزرگوار کا نام عبد اللہ ہے حسن نہیں ہے۔ اس بنا پر آنحضرت ﷺ نے جس مہدی کے ظہور کی بشارت کی ہے وہ فرزند عبد اللہ ہیں امام حسن عسکری ﷣کے فرزند نہیں ہیں۔

حجۃ بن الحسن العسکری ﷣

بات شروع کرنے سے پہلے یہ عرض کر دیں کہ دو حدیثیں اس وقت ایک دوسرے کے مقابل قرار پاتی ہیں جب دونوں ایک معیار کی ہوں۔ اگر دو روایتوں میں ایک روایت مستند اور معتبر ہو اور دوسری ضعیف ہو تو ضعیف روایت قوی روایت کے مقابلہ میں نہیں آسکتی ہے اور نہ ہی قوی اور مستند روایت کی موجودگی میں ضعیف روایت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

۱۔       جن روایتوں میں حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام حسن قرار دیا گیا ہے ان کی تعداد ان تین روایتوں سے زیادہ ہے۔

الف۔ وہ روایتیں جن میں حضرت رسول خدا ﷺ نے اپنے اور روز قیامت تک اپنے خلفاء اور جانشین کی تعداد ۱۲ قرار دی ہے۔ وفات رسول سے صبح قیامت تک رسول خدا ﷺ کے جانشین بس ۱۲ ہوں گے نہ ۱۲ سے کم اور نہ ۱۲ سے زیادہ اہل سنت کے بزرگ علماء نے ان روایتوں کو صحیح اور معتبر قرار دیا ہے اور بعض علماء نے تواتر کی بات کی ہے۔ یہ بارہ کی تعداد صرف اس سلسلہ امامت و ہدایت پر منطبق ہوتی ہے جس کی ابتدا حضرت علی بن ابی طالب ﷣ اور آخر حضرت امام حسن عسکری ﷣ کے فرزند حضرت امام حجۃ بن الحسن العسکری امام مہدی ﷣ ہیں۔

وہ روایتیں جس میں حضرت رسول خدا ﷺ نے اپنے بارہ جانشینوں کے نام کی وضاحت ان کی ولایت کے ساتھ کی ہے اس سے واضح ہو جائیگا حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام حسن ہے عبد اللہ نہیں یہاں صرف ایک روایت پیش کرتے ہیں۔

جابر بن عبد اللہ انصاری کی روایت ہے کہ جندل بن جنادہ حضرت رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور متعدد سوالات کئے ان میں ایک سوال یہ تھا۔

اے اللہ کے رسول آپ کے بعد آپ کے اوصیاء کون ہیں تاکہ میں ان سے تمسک کروں۔

فرمایا:میرے اوصیاء بارہ ہیں۔

جندل نے کہا۔ توریت میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ آپ نے ان کے نام بتائے۔

فرمایا:ان میں سب سے پہلے اوصیاء کے سردار ابوالائمہ علی ہیں ان کے بعد ان کے دو فرزند حسن اور حسین ان سے تمسک کرو اور دیکھو جاہلوں کی جہالت تمہیں دھوکہ نہ دے اور جب علی بن الحسین زین العابدین کی ولادت ہوگی تمہاری زندگی تمام ہوگی اور اس دنیا سے تمہاری آخری غذا دودھ کا شربت ہوگا۔

جندل:ہم نے توریت میں اور انبیاء کی دوسری کتابوں میں ایلیا،شبر،شبیر،پڑھا ہے یہ علی اور حسن و حسین کے نام ہیں حسین کے بعد کون ہوگا۔

فرمایا: حسین کے بعد ان کے فرزند علی ہوں گے جن کا لقب زین العابدین ہے ان کے بعد ان کے فرزند محمد جن کا لقب باقر ہے ان کے بعد ان کے فرزند جعفر جو صادق کے نام سے پکارے جائیگے ان کے بعد ان کے فرزند موسیٰ جو کاظم کے نام سے یاد کئے جائیگے ان کے بعد ان کے فرزند علی جن کا لقب رضا ہوگا،ان کے بعد ان کے فرزند محمد جو تقی و زکی کے نام سے یاد کئے جائینگے ان کے بعد ان کے فرزند علی جو نقی و ھادی کے نام سے پکارے جائینگے ان کے بعد ان کے فرزند حسن جو عسکری کے نام سے پکارے جائینگے ان کے بعد ان کے فرزند محمد جو مہدی ،القائم، اور الحجۃ کے نام سے پکارے جائینگے وہ غیبت اختیار کرینگے پھر وہ ظاہر ہوں گے اور جب ظاہر ہوں گے تو زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی………

جندل:خدایا تیری حمد و ثناء تونے ان کی معرفت کی توفیق عطا کی۔ وہ امام زین العابدین ﷣ کے زمانہ تک طائف میں زندہ رہے۔

اس کا انتقال ہوا اور اس کی آخری غذا دودھ کا شربت تھا۔ [5]؎

اس طرح کی متعدد روایتیں اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہیں،اس کے علاوہ جناب علامہ ابرہیم بن محمد الحموئی الجوینی الشافعی نے اپنی کتاب فرائد السمتین میں اس سلسلے کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں بارہ اماموں کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے والد اور انکی والدہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔ حضرت امام مہدی ﷣ کے بارے میں روایت اس طرح نقل کی ہے۔

ابو القاسم محمد بن الحسن ھو حجۃ اللہ القائم اور جاریہ اسمھا نرجس صلوات الله علیھم اجمعین.

ابو القائم محمد بن الحسن ہی حجت خدا اور قائم ہیں اور ان کی والدہ کا نام نرجس ہے۔ [6]؎

ان روایتوں میں کہیں بھی حضرت امام مہدی ﷣ کے والد کا نام عبد اللہ نہیں بتایا گیا ہے اب رہ گیا یہ سوال کہ ان روایتوں کا كیاکیا جائے جس میں آنحضرت ﷺ کے والد کا نام یعنی عبد اللہ بتایا گیا ہے۔ تو اس سلسلہ میں عرض کرتے ہیں۔

ان روایتوں کو اہل سنت کے اکثر علماء اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ روایت اسمہ اسمی (ان کا نام میرا نام ہوگا)تک نقل کی ہے اسم ابیہ اسم ابی (ان کے والد کا نام میرے والد کا نام ہوگا)کا اضافہ نقل نہیں کیا ہے۔

پہلی روایت :

جناب احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں چار جگہ نقل کی ہے (جلد ۱ صفحہ ۳۷۶،۳۷۷،۴۳۰،۴۴۸)مگر یہ اضافہ نقل نہیں کیا ہے۔

اسی طرح ترمذی نے اپنی سنن میں (سنن ترمذی کا شمارہ صحاح ستہ میں ہوتا ہے)

یہ روایت نقل کی ہے مگر اسم ابیہ اسم ابی کا اضافہ نقل نہیں کیا ہے۔

لطف کی بات تو یہ ہے جناب ابو عبد اللہ محمد بن یوسف انوفلی الگنجی الشافعی نے اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں یہ روایت تیس سے زیادہ راویوں سے نقل کی ہے۔ کسی ایک روایت میں بھی اسم ابیہ اسم ابی کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد كہتے ہیں:

عقلمند پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے یہ اضافہ بالکل معتبر نہیں ہے کیونکہ تمام علماء حدیث اس اضافہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ [7]؎

اس طرح یہ بات واضح ہوگئی جن روایتوں کی بنیاد پر لوگ حضرت امام ﷣ کے والد کانام عبدا للہ بتا رہے ہیں اس کا تذکرہ روایتوں میں نہیں ہے یہ بات لوگوں کی اپنی ایجاد ہے آئندہ صفحات پر یہ بات اور زیادہ واضح ہو جائیگی۔

حسنی یا حسینی

بعض اہل سنت سنی ابو داؤود کی ایک روایت کے مطابق حضرت امام مہدی ﷣ کو حضرت امام حسن ﷣ کی نسل میں قرار دیتے ہیں،وہ روایت اس طرح ہے۔

حضرت علی ﷣ نے اپنے فرزند حضرت امام حسن ﷣ کی طرف دیکھ کر فرمایا:

میرا یہ فرزند سردار ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اس کی نسل سے تمہارے نبی کا ہمنام ظاہر ہوگا۔ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا………[8]؎

اس ایک روایت کی بنا پر اہل سنت کے بعض علماء حضرت امام مہدی ﷣ كو حسنی قرار دیئے۔

اس کا جواب یہ ہے ۔ حدیث کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے اس روایت کو صرف ابو داؤد نے نقل کیا ہے ان کے علاوہ کسی اور نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے نہ ان سے پہلے اور ان میں جس نے بھی نقل کیا ہے وہ ابو داؤد کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ یعنی صرف ابو داؤد اس کے منفرد نقل کرنے والے ہیں۔

ب۔    جناب الجزوی الشافعی نے اپنی کتاب اسمیٰ المناقب میں یہ بات ذکر کرنے کے بعد کہ حضرت امام مہدی ﷣ امام حسن ﷣ کی نسل سے ہوں گے لکھا ہے:

والاصح انه من ذرية الحسين ابن علي لنص امير المؤمنين على ذلك…

قال عليٌ و نظر إلى ابنه الحسين فقال: ان ابني هذا سيد كما سماه النّبىّ ﷺ و سيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيّكم…

ہكذا رواہ ابو داؤد فی سنتہ و سكت عنہ

اور صحیح تویہ ہے کہ حضرت امام مہدی ﷣ امام حسین ﷣ کی نسل سے ہوں گے کیونکہ حضرت علی ﷣ نے اپنی ایک روایت میں باقاعدہ صراحت سے اس کا ذکر فرمایا ہے۔

حضرت علی ﷣ نے اپنے فرزند حسین کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ فرزند سردار ہے جیسا کہ نبی کریم نے نام رکھا ہے اس کی نسل سے تمہارے نبی کا ہمنام ظاہر ہوگا………

یہ روایت ابو داؤد نے اپنی سنن میں اس طرح نقل کی ہے۔ [9]؎

اس سے واضح ہوتا ہے کہ سنن ابوداؤد کے بعض نسخوں میں امام حسن کے بجائے امام حسین کا تذکرہ ہے اور امام حسین ﷣ کے نام کی روایت کی بقیہ دوسری روایتوں سے تائید ہوتی ہے جیسے ۔

حضرت رسول خدا ﷺنے فرمایا:

اگر اس دنیا کی زندگی میں صرف ایک دن باقی رہ جائیگا خدا وند عالم اس دن کو اتنا طویل کرے گا یہاں تک کہ خدا میری نسل میں ایک شخص کو ظاہر کرے گا جس کا نام میرا نام ہوگا۔

جناب سلمان نے کھڑے ہو کر دریافت کیا۔

اے اللہ کے رسول آپ کے کس فرزند کی نسل سے ؟

آنحضرت ﷺ نے حضرت امام حسین ﷣ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا میرے اس فرزند کی نسل سے ہوگا۔ [10]

ایک دوسری روایت میں ہے۔

حضرت رسول خدا ﷺ نے جناب فاطمہ سے فرمایا:

اے فاطمہ خدا نے ہم اہل بیت کو چھ خصوصیات دی ہیں جو کسی اور کو نہیں دی ہیں اور اولین اور آخرین میں کسی کو یہ خصوصیات نہیں ملی ہیں………

ہم میں سے اس امت کا مہدی ہے جس کے پیچھے جناب عیسیٰ ﷣ نماز پڑھینگے پھر امام حسین ﷣ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

من ھذا مھدی الامۃ

امت کا مہدی ان کی نسل سے ہوگا۔ [11]؎

ج۔      اس کے علاوہ وہ تمام روایتیں جو اس سے پہلے ذکر ہو چکی ہیں جس میں حضرت رسول خدا ﷺ نے بارہ اماموں کا نام بنام تعارف کرایا ہے اس میں آنحضرت نے امام مہدی ﷣ کو حضرت حسین ﷣ کی نسل میں قرار دیا ہے۔

د۔       اس کے علاوہ حضرت امام مہدی ﷣ حسنی بھی ہیں حسینی بھی ہیں کیونکہ حضرت امام محمد باقر ﷣ کی نسل سے ہیں اور حضرت امام محمد باقر ﷣ کی والدہ حضرت امام حسن ﷣ کی بیٹی ہیں اس طرح امام باقر ﷣ والد کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی ہیں ان کے بعد تمام ائمہ اسی نسبت سے حسنی اور حسینی ہیں اور اس کی مثال اسلام میں موجود ہیں۔ قرآن کریم نے سورہ انعام کی آیت ۸۴۔ ۸۵ میں جناب مریم کی نسبت سے حضرت عیسیٰ ﷣ کو جناب ابراہیم ﷣ کی نسل میں قرار دیا ہے۔ اور خود حضرت امام حسن اور امام حسین ﷦ اپنی والدہ ماجدہ فاطمہ زہرا ﷥ کی بنا پر رسول خدا ﷺ کے فرزند ہیں۔ اس طرح حضرت امام مہدی ﷣ حسنی اور حسینی دونوں ہیں اور ان میری نسبتوں سے فرزند فاطمہ﷥ اور فرزند رسولﷺ ہیں۔

امام موجود ہیں

بعض لوگ حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کو اس لئے تسلیم نہیں کرتے ہیں اگر یہ تسلیم کرلیں کہ حضرت امام مہدی ﷣ ۱۵ شعبان ۲۵۵؁ھ کو پیدا ہو چکے ہیں چونکہ انکا ظہور قیامت کی ایک علامت ہے اس بنا پر و ہ قیامت تک زندہ رہیں گے اس طرح ان کی عمر کس قدر طولانی ہوگی،پھر غیبت اور دوسرے مسائل ،لیکن ان اندیشوں سے حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے تمام شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ ۱۵ شعبان ۲۵۵؁ھ کو حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت ہوچکی ہے اور اس وقت وہ زندہ ہیں اور خدا کے حکم سے غیبت میں ہیں یعنی اس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں کہ لوگ ان کو پہچانتے نہیں ہیں وہ ہر سال حج میں تشریف لاتے ہیں وہ ہر ایک کو پہچانتے ہیں لوگ ان کو نہیں پہچانتے ہیں جس وقت خدا کا حکم ہوگا وہ ظاہر ہوں گے اور خانۂ کعبہ سے اپنے ظہور کا اعلان کرینگے اور پھر دیکھتے دیکھتے ساری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔

شیعوں کے علاوہ اہل سنت کے بزرگ علماء و محدثین حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کے قائل ہیں بعض تو وہ ہیں جنہوں نے خود حضرت امام مہدی ﷣ سے ملاقات کی ہے(۱)اور بعض وہ ہیں جنہوں نے حضرت امام مہدی ﷣ کے سلسلہ سند سے روایت نقل کی ہے۔ ظاھر سی بات ہے کہ ملاقات اسی سے ہوتی ہے اور روایت بھی اسی سے نقل کی جاتی ہے جو پیدا ہو چکا ہو اور زندہ ہو ۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کی دلیل ہیں بلکہ ان کے زندہ رہنے کی بھی دلیل ہیں ذیل میں بعض ان علماء کے نام لکھتے ہیں جو حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کے قائل ہیں۔

۱۔

علامہ الشیخ شمس الدین محمد خولون دمشقی حنفی

الشندورات الذھبیہ ص۱۱۷۔ مطبوعہ بیروت

۲۔

علامہ کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی

مطالب السؤل، ص ۸۹ مطبوعہ تہران۔

۳۔

علامہ ابن خلکان

وفیات الاعیان، ج ۱، ص۵۷۱ مطبوعہ مصر۔

۴۔

علامہ سبط ابن جوزی

تذکرۃ الخواص ص ۲۰۴ مطبوعہ تہران۔

۵۔

علامہ ابن صباغ مصری مالکی

الفصول المھمہ ص ۲۷۴ مطبوعہ غری

۶۔

علامہ مولوی محمد مبین فرنگی محلی لکھنؤی

وسیلۃ النجاۃ ص ۴۲۰ مطبوعہ گلشن فیض لکھنؤ ۔

۷۔

علامہ ابن حجر مکی

الصواعق المحرقہ ، ص 124، مطبوعہ

۸۔

علامہ شبلنجی

نور الابصار ص ۲۲۹ مطبوعہ مصر ۔

۹۔

علامہ قندوزی

ینابیع المودۃ ج ۳ ص ۱۱۳ مطبوعہ بیروت

۱۰۔

علامہ نور الدین عبد الرحمٰن جای

 شواھد النبوۃ ص ۲۱ مطبوعہ بغداد۔

علامہ محدث بزرگ جناب میرزا حسین نوری ﷫ نے اپنی کتاب کشف الاستار میں ایسے ۴۰ بزرگ مرتبہ علماء کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت امام مہدی ﷣ کا تذکرہ کیا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ جناب آقا ئی لطف اللہ صافی نے اپنی کتاب نوید امن و امان میں اہل سنت کے ۷۷ علماء و محدثین کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔[12]؎

شیخ عبد الوھاب سقرانے نے اپنی کتاب لواقح الانوار فی طبقات الاخبار جلد ۲ صفحہ ۱۳۹ پر جناب شیخ حسن عراقی کے تذکرہ کے ذیل میں حضرت امام مہدی ﷣ سے ان کی ملاقات کا تذکرہ کیا ہے۔

جناب شیخ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب الفضل المبین میں اپنی سلسلہ سند کے ذریعہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکری امام مہدی ﷣ کے ذریعہ ان کے اباء و اجداد کے ذریعہ حضرت رسول خدا ﷺ کی یہ روایت نقل کی ہے خدا فرماتا ہے:

 إِنِّي أَنَا اللَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا مَنْ أَقَرَّ لِيْ بِالتَّوْحِيْدِ دَخَلَ حِصْنِيْ وَ مَنْ دَخَلَ حِصْنِيْ أَمِنَ عَذَابِيْ

میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے جس نے میری توحید کا اقرار کیا وہ میرے قلعہ میں داخل ہو گیا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ [13]؎

حضرت امام علی رضا ﷣ نے اس روایت کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ عقیدۂ امامت کے ساتھ توحید کا اقرار عذاب سے نجات کا سبب ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے فرزند شاہ عبد العزیز نے شیعہ مذھب کی رد میں تحفہ اثنا عشری لکھی ہے مذکورہ بالا روایت خود شاہ عبد العزیز نے اپنے والد سے نقل کی ہے۔

ابن حجر مکی کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو شیعہ مذھب سے خاص عداوت ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی کتاب الصواعق المحرقہ میں حضرت امام حسن عسکری ﷣ کے تذکرہ کے بعد لکھا ہے۔

حضرت امام حسن عسکری ﷣ نے صرف ایک فرزند چھوڑا جس کا نام ابولقاسم محمد حجت ہے ، ان کے والد کی وفات کے وقت ان کی عمر ۵سال تھی مگر خدا نے اسی عمر میں انہیں حکمت عطا فرمائی تھی۔

علامہ سبط ابن جوازی نے اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں باقاعدہ ایک فصل حضرت امام مہدی ﷣ سے مخصوص قرار دی ہے:

فصل: ہو محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ الرضا بن جفعر بن محمد بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیهم السلام.

كنيت ابو عبد الله و ابو القاسم و هو الخلف الحجة صاحب الزمان القائم و المنتظر…

محمد بن حسن عسکری کے فرزند وہ علی نقی کے فرزند وہ محمد نقی کے فرزند و علی رضا کے فرزند وہ موسیٰ کاظم کے فرزند وہ جعفر صادق کے فرزند وہ محمد باقر کے فرزند وہ علی زین العابدین کے فرزند وہ حسین بن علی کے فرزند وہ ابوطالب کے فرزند ۔

ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابوالقاسم ہے وہی حجت ہیں صاحب الزمان ہیں اور القائم المنتظر ہیں۔

سبط ابن جوزی نے نہ صرف حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت کا تذکرہ کیا ہے بلکہ ان کے سلسلہ نسب کا بھی تذکرہ کیا ہے،کیا ان واضح دلیلوں کے بعد بھی حضرت امام مہدی ﷣ کی ولادت میں شک رہ جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص اس قدر متعصب ہواور کسی بات کو قبول کرنے کو تیار نہ ہو تو کیا وہ ان تمام واقعات کو جھٹلا سکتا ہے جو حضرت امام مہدی ﷣ سے ملاقات کے موجود ہیں ہر زمانہ کے علماء اور مؤرخین نے حضرت امام مہدی ﷣ سے ملاقات کو لکھا ہے۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ان ملاقات کرنے والوں میں صرف علماء نہیں ہیں بلکہ غیر علماء بھی اور ان کی تعداد زیادہ ہے یہاں غیر شیعہ افراد کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے جنہیں اس غیبت کے زمانہ میں حضرت امام مہدی ﷣ سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا ہے۔

اس وقت ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ظہور کا انتظار کریں اور خود کو ان صفات سے آراستہ کریں جو حضرت کے اعوان و انصار کی بیان کی گئی ہیں تاکہ ظہور کے وقت ہم حضرت امام مہدی ﷣ کے مخلص اور وفادار غلاموں میں شمار ہو سکیں۔

آمین یا رب العالمین


[1]       مجمع البیان،جلد ۴، جز ۷،ص۱۵۲

[2]       المستدرک علی الصحیحین ۴ ؍ ۴۴۲

[3]       سنن ابی عمر و الدانی، 94-95

[4]       تاریخ بغداد ۵؍۳۹۱

[5]       ینابیع المودہ، ص۴۴۲؛مطبوعہ اسلامبول؛احقاق الحق، جلد ۱۳، ص ۵۳ -۵۴

[6]       احقاق الحق، جلد ۱۳، ص۵۴

[7]       البیان فی اخبار صاحب الزمان، ص ۴۸۳-۴۸۵ بحوالہ مجلہ تراثنا، عدد۴۳- ۴۴،ص ۵۷

[8]       سنن ابوداؤد، جلد ۴، ص۱۰۸، حدیث نمبر ۴۲۹۰، باب المہدی

[9]       اسمیٰ المناقب ۱۶۵- ۱۶۶ شمارہ ۶۱

[10]     عقد الدرر، ص۲۴ ذخائر العقبیٰ، ۱۳۶-۱۳۷؛ المنار المنیف ۱۴۸

[11]     البیان فی اخبار صاحب الزمان ص ۵۰۱- ۵۰۲، ح 9؛ ینابیع المودۃ ۴۹

[12]     نوید امن و امان، ص۴۱۶- ۴۱۸

[13]     استخراج المرام، جلد ۱، ص ۲۰۲ – ۲۰۳

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s