بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ صَلَّی اللهُ عَلَیْكَ یَا وَلِیَّ الْعَصْرِ اَدْرِكْنَا
حضرت امام مہدی کے ظہور کا عقیدہ اپنی تفصیلات کے ساتھ شیعہ اور اہل سنت کی قدیم اور جدید کتابوں میں موجود ہے یعنی ہر دور کے معتبر اور مستند علماء و محدثین،مفسرین و مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے تمام اسلامی فرقے اس عقیدہ پر متفق ہیں یہ عقیدہ فکر کی ایجاد نہیں ہے۔ اس عقیدہ کو صرف وہی مقبول سے مخصوص قرار دے سکتاہے جو علمی دنیا سے بلکل غافل ہو۔
چونکہ یہ عقیدہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان مشترک عقیدہ ہے۔ لہٰذا یہی عقیدہ تمام اسلامی فرقوں میں فقطہ اشتراک و اتحاد قرار پا سکتاہے۔ یہی عقیدہ باہمی انتشار و افتراق کو دور کر سکتا ہے اور ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ کیونکہ تمام ہی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ۔ آخری زمانہ میں اہل بیت میں حضرت فاطمہ زہراء کی نسل پاک سے امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔
کوئی بھی مسلمان ان حدیثوں کا انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ حدیثیں متواتر ہیں۔
۱۔ اہل سنت کے بزرگ عالم ابوالحسن محمد بن الحسین الآبری نے اپنی کتاب مناقب الشافعی میں لکھا ہے۔
قد تواترت الاخبار واستقامت (بکثرۃ رواتھا) عن المصطفیٰ رسول اللہ ﷺ بذکر المهدي و انہ من اھل بیتہ…
حضرت رسول خدا ﷺ سے کثرت اور تواتر سے یہ روایتیں موجود ہیں جن میں آنحضرتؐ نے حضرت امام مہدی کے ظہور کی خبر دی ہے۔ اور وہ اہل بیت سے ہوں گے۔
حدیثوں کے متواتر ہونے کا نظریہ صرف شیعوں کا نظریہ نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے قدیم اور جدید علماء نے اس نظریہ کی تصدیق کی ہے۔ جیسے
الف۔ ابوعبد اللہ محمد یوسف گنجی(۶۵۸)نے اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان ص۱۶۶۔
ب۔ ابن قیم جوزیہ محمد بن ابی بکر دمشقی (۷۵۱)المنار المنیف ص۱۲۷۔ Continue Reading »


![Islamic-Wallpapers-00164-[yasinmedia_com]](http://mahdaviyat.files.wordpress.com/2011/04/islamic-wallpapers-00164-yasinmedia_com.jpg?w=212&h=300)